نئی دہلی،08؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) احمد آباد-پوری سپر فاسٹ ایکسپریس کے ساتھ ایک حادثہ ہونے سے بچ گیا۔یہ ٹرین ہفتہ کو بغیر انجن کے 15 کلومیٹر تک دوڑتی رہی۔یہ معاملہ ٹٹلاگڑھ ریلوے اسٹیشن کا ہے۔اس معاملیمیں ریلوے کے دو ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔تاہم، اس دوران ٹرین میں سوار تمام مسافر محفوظ ہیں۔یہ ٹرین کیسگا کی طرف جا رہی تھی۔اس واقعہ کی وجہ ریلوے ملازمین کی طرف کوچ کے وہیل پر اسکڈ بریک نہ لگانا ہے۔قوانین کے مطابق ان پر بھی بریک لگانے پڑتے ہیں۔جب ٹرین سے انجن ہٹایا جاتا ہے تو اسے دوسری طرف سے لگایا جاتا ہے۔اس دوران ٹرین کے کمپارٹمنٹ کو اسکڈ بریک لگا کر اپنی جگہ پر روکا جاتا ہے۔اس معاملے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یا تو اسکڈ بریک نہیں لگائے گئے یا لگائے بھی گئے تو ٹھیک طریقے سے نہیں لگائے گئے۔معاملے کی اصلیت تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ ئے گی۔بغیر انجن کے 15 کلومیٹر تک دوڑی ٹرین پٹری سے بھی اتر سکتی تھی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔واقعہ کے بعد ٹرین کے کمپارٹمنٹ کو لینے کے لئے سنیچر کی رات تقریباً 11 بجے ٹٹلاگڑھ سے انجن بھیجا گیا۔یہ واقعہ اس لیے پیش آیا، کیونکہ ٹٹلاگڑھ کے بعد ریلوے لائن ڈھال پر ہے۔لہذا بغیر انجن کے ہی ٹرین ڈھال کی سمت میں چلتی رہی۔مشرقی ساحل ریلوے کے جی ایم نے کہا ہے ریلوے کی حفاظت کے قوانین سے کھلواڑ کرنے والوں پر سخت کارروائی کی جائے گی۔مسافروں کی حفاظت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔کسی بھی ریلوے ملازم کے مجرم پائے جانے پر اس پر کارروائی کی جائے گی۔